مناتے جشن ہو تم زندگی کا
کبھی سوچا ٹھکانے آخری کا
مِرے دل کو اذیت مت دیا کر
مِرا دل راستہ ہے روشنی کا
بُرا کہنے لگے ہو دھاندلی کو
ارادہ تو نہیں ہے دھاندلی کا
بُرے حالات جتنے بھی ہوئے ہو
کبھی سوچا نہیں ہے خود کشی کا
اکیلے پن کی صورت کو ہٹا کر
پھروسہ کر لیا ہے اجنبی کا
ضرورت کیھنچ لائی ہے تِرے پاس
پتہ چل جائے گا اب مخلصی کا
پرندوں کی خوشی سے لگ رہا ہے
گزر ہوتا نہیں ہے آدمی کا
کروڑوں کی طرف اب دیکھتا ہے
بھرے گا پیٹ کیسے لکھ پتی کا
کتابوں کی بنا دیتی ہے خالق
تجھے مطلب پتہ ہے خامشی کا
علی کے ماننے والا ہوں سن لو
فنا کر دوں گا جادو سامری کا
احسان الحق
No comments:
Post a Comment