جب بھی ملا وہ ٹوٹ کے ہم سے ملا تو ہے
ظاہر ہے اس خلوص میں کچھ مدعا تو ہے
اس کو نیا مزاج،۔ نیا ذہن چاہیۓ
بچہ زباں چلاتا نہیں سوچتا تو ہے
کیا منصفی ہے آپ کی خود دیکھ لیجیۓ
انصاف شہر شہر تماشا بنا تو ہے
دھبے لہو کے ہم کو بتا دیں گے راستہ
شاید کسی کے پاؤں میں کانٹا چبھا تو ہے
منزل کی جستجو میں اکیلے نہیں ہیں ہم
ہمراہ تو نہیں ہے تِرا نقشِ پا تو ہے
گو امن ہو گیا ہے وہاں قتل و خوں کے بعد
دروازہ سازشوں کا ابھی تک کُھلا تو ہے
تہذیب کے لبادے میں سب بے لباس ہیں
انجم تِرے بدن پہ دریدہ قبا تو ہے
فاروق انجم
No comments:
Post a Comment