بھیک لے کر ہی اگر دان کیا جائے گا
اپنی ہی ذات کا نقصان کیا جائے گا
آپ نے فکر کی بھرپور حمایت کی ہے
آپ کو صاحبِ ایمان کیا جائے گا
آپ کیوں سچ کے تحفظ میں کھڑے ہیں اب تک
آپ کو روز پریشاں کیا جائے گا
ہجر کے زخم تو رسوا ہی کریں گے مجھ کو
اور پھر چاک گریبان کیا جائے گا
اپنی آنکھوں میں بسا کر کے تِرا عکس جمیل
مُدتوں تک تجھے مہمان کیا جائے گا
اس سبب سے کبھی نظریں نہ مِلا پائے تو
تجھ پہ یہ سوچ کے احسان کیا جائے گا
کام مُشکل ہے بھروسہ ہے مگر راہی کو
اس کے انسان کو انسان کیا جائے گا
راکیش راہی
No comments:
Post a Comment