Monday, 7 March 2022

سفر میں ہی چھپی ان کی خوشی ہے

سفر میں ہی چُھپی ان کی خُوشی ہے

مُسافر کو مسافت بندگی ہے

نظر سب آ رہا ہے صاف کالا

اندھیروں میں بھی کتنی روشنی ہے

پریشاں ہوں میں دن میں روشنی سے

تو شب میں چاندنی پیچھے پڑی ہے

اُداسی ہے تو پھیکا رنگ، لیکن

یہ مجھ تصویر کا اک رنگ ہی ہے

خطا اس میں نہیں ہے آئینے کی

یہ ساری گرد چہروں پر جمی ہے

بدن میرا ہے اک ویراں مکاں، پر

مکیں بن کر یہ وحشت رہ رہی ہے

گلے لگ کر مِرے صحرا جو رویا

جو باقی تشنگی تھی بُجھ گئی ہے

زمیں کے پاؤں بھاری ہیں فلک سے

یہ اُکھڑی ان منی رہنے لگی ہے


پوجا بھاٹیہ

No comments:

Post a Comment