Sunday, 7 March 2021

بیاں سے اس لیے بھی آج ماورا دکھ ہے

 بیاں سے اس لیے بھی آج ماورا دکھ ہے

تمہیں پتہ ہی نہیں یار مجھ کو کیا دکھ ہے

گریز مجھ سے تِرا تو سمجھ میں آتا ہے

رقیب سے یہ مگر تیرا رابطہ، دکھ ہے

تمہاری ذرہ نوازی سے ہے فراوانی

ہمارے شہر میں اب ملتا جابجا دکھ ہے

یہ کڑوا کڑوا سا جو ذائقہ ہے اشکوں کا

نمک نہیں ہے فقط، اس میں تیرتا دکھ ہے

کوئی ہے مرتا گھٹن سے، تو یاں کسی کے لیے

دِیے بجھاتی یہ چلتی ہوئی ہوا دکھ ہے

مجھے سمجھتا تہی دست ہے تو کیوں آخر؟

ذرا یہ جھولی میں دیکھو کہ بے بہا دکھ ہے

جہاں میں کوئی نہیں شے بھی جو ابد تک ہو

تِرے ستم کی نہیں کوئی انتہا ، دکھ ہے

وصال جانتے ہیں سارے ہم مزاج مِرے

یہ میں نہیں مِرے لہجے میں بولتا دکھ ہے


احمد وصال

No comments:

Post a Comment