آپ کی بات مان لوں گا میں
آپ مانیں گے جو کہوں گا میں
میں کہ دریا ہوں، تُو سمندر ہے
پس تِری سمت ہی بہوں گا میں
گر زمانہ مجھے درست کہے
خود کو کتنا غلط لگوں گا میں
کون اس کی مہک سنبھالے گا
نام تیرا اگر لکھوں گا میں
کھائیاں ہیں کسی کے گالوں میں
پر دوبارہ نہیں گِروں گا میں
چار جائز ہیں پر تِری خاطر
دوسری بھی نہیں کروں گا میں
داد دیں گے عدو محبت کی
جنگ اس طور سے لڑوں گا میں
عقل سے کام لوں گا الفت میں
صرف دل کی نہیں سنوں گا میں
کر دیا اس نے اَن بلاک مجھے
اس بہانے قمر جیوں گا میں
قمر آسی
No comments:
Post a Comment