فرصت ہو اگر تم کو کسی شام مصور
تصویر کرو دل کے کچھ اوہام مصور
مل جائے حقیقت میں ہو تسکین مجھے بھی
رنگوں سے کہاں ملتا ہے آرام مصور
مجھ کو نہیں معلوم کہ کیا راز ہے اس میں
تصویر کو دیتا نہیں تُو نام مصور
اندھوں کو خبر کیا ہے کہ کیا اس سے عیاں ہے
رنگوں سے دیا کرتا ہے پیغام مصور
تصویر امارت کی ہزاروں میں بکی ہے
غربت کا لگائے گا تُو کیا دام مصور
جیون کو بنانے میں تِرے رنگ چُرا لوں
اب کرنے کو باقی ہے یہی کام مصور
رنگوں میں دکھانا کہاں ممکن اسے احمد
وہ حُسن کا شہکار ہے، میں عام مصور
احمد وصال
No comments:
Post a Comment