Saturday, 17 July 2021

اپنا ہر دکھ خود سے کہنا

 اپنا ہر دکھ خود سے کہنا


خود ہی اپنی سَکھی سہیلی

دن بھر کی سب چھوٹی سے بھی چھوٹی باتیں

دُور کسی گنجان سڑک پہ چلتے چلتے

جب پاؤں اک پتھر سے ٹکرایا تھا تو

کیسے میں چُھوئی موئی سی بیچ سڑک اُس شام گری تھی

میری چادر تیز ہوا سے دُور تلک اُڑتی ہی گئی تھی

نوسر باز ہوا سے کیسے دھوکا کھایا

اچھی بُری نظریں دنیا کی

اپنی ہار اور اپنی جیت

اپنا سب کچھ خود سے کہنا

خود ہی بیٹھ کے روتے رہنا

خود کو آپ دلاسا دینا

اپنی آنکھ کے سارے آنسو خود ہی پینا

خود ہی مرنا

خود ہی جینا

اپنے دُکھ سُکھ خود سے کہنا

خود ہی ہنسنا

خود ہی رونا

روتے روتے بے خود ہونا


شازیہ مفتی

No comments:

Post a Comment