Saturday, 17 July 2021

بٹیا رانی سے جھوٹ بولتے ہو

 بِٹیا رانی سے جُھوٹ بولتے ہو

زندگانی سے جھوٹ بولتے ہو

تب کہانی پہ کیا گزرتی ہے

جب کہانی سے جھوٹ بولتے ہو

زندگی، موت کے معاملے پر

دارِ فانی سے جھوٹ بولتے ہو

تم زمینی خدا کے ڈر سے کیوں

آسمانی سے جھوٹ بولتے ہو

پڑھتے رہتے ہو جون کو پھر بھی

یار جانی سے جھوٹ بولتے ہو

تم ترقی کرو گے تیزی سے

تم روانی سے جھوٹ بولتے ہو

اس کی آنکھوں میں دیکھ کر خالد

گہرے پانی سے جھوٹ بولتے ہو

ساری دنیا کا دکھ نہیں مجھ کو

تم بھی شانی سے جھوٹ بولتے ہو


خالد ندیم شانی

No comments:

Post a Comment