Saturday, 17 July 2021

چہرے جتنے روپ بدلتا رہتا ہے

 چہرے جتنے روپ بدلتا رہتا ہے

آئینے میں نقص نکلتا رہتا ہے

ذہن پہ بڑھتا جاتا ہے صدیوں کا دباؤ

لمحہ کیسے کرب میں ڈھلتا رہتا ہے

دل ہی نہیں روشن تو دن کیا نکلے گا

سورج تو تاریخ بدلتا رہتا ہے

یادوں تنہائی سے باتیں کرتی ہیں

سناٹا آواز بدلتا رہتا ہے

اک لمحے کی حقیقت تک جانے کے لیے

خواب کئی صدیوں تک چلتا رہتا ہے


ذکا صدیقی

No comments:

Post a Comment