Saturday, 17 July 2021

یہ حرف ہمارے خوشبو ہیں

 یہ حرف ہمارے خُوشبُو ہیں

ہم اپنی ذات میں باہُو ہیں

یہ تیرے پاس سے کون اُٹھا

تیرے سُلگے ہوئے جو پہلُو ہیں

احساس نہیں رکھتے ہم کیا

کیا ہم مٹی کے مادُھو ہیں

یہ کون سا روگ لگا بیٹھے

ہر درد کا ہم تو دارُو ہیں

مولا تُو صدا سن خانم کی

دیکھ اس کی آنکھ میں آنسُو ہیں


فریدہ خانم

No comments:

Post a Comment