Thursday, 5 August 2021

غنچہ جو سر شاخ چٹکتے ہوئے دیکھا

 غنچہ جو سرِ شاخ چٹکتے ہوئے دیکھا

پہلو میں بہت دل کو دھڑکتے ہوئے دیکھا

مہندی رچے ہاتھوں نے اٹھایا ہی تھا گھونگھٹ

اک شعلۂ جوالہ لپکتے ہوئے دیکھا

بھولا نہیں احساس تِرے لمس کی خوشبو

تنہائی میں انفاس مہکتے ہوئے دیکھا

وہ تیرے بچھڑنے کا سماں یاد جب آیا

بیتے ہوئے لمحوں کو سسکتے ہوئے دیکھا

کھینچے ہوئے اب تیر کماں میں ہے وہ بالک

آغوش میں جس کو نہ ہمکتے ہوئے دیکھا

جب جب بھی چراغوں کی لویں ہم نے بڑھائیں

کیا کیا نہ ہواؤں کو سنکتے ہوئے دیکھا


عشرت قادری

No comments:

Post a Comment