ہم جو ہنستے ہیں تو ہنستے ہیں تِرے ہونے سے
سارے موسم بھی تو اچھے ہیں ترے ہونے سے
کتنی آنکھوں کی بصارت یہ تِرا چہرہ ہے
کتنے دل ہیں جو دھڑکتے ہیں ترے ہونے سے
گاؤں کے بچے ہیں خوش ہوتے ترے آنے سے
اور یہاں پھول بھی کھلتے ہیں ترے ہونے سے
کتنے بہرے ہیں جنہیں تُو ہے سنائی دیتا
کتنے گونگے ہیں جو بولے ہیں ترے ہونے سے
پیڑ خوش ہیں تو پرندوں کا چہکنا تجھ سے
اور ہم لوگ تو جیتے ہیں ترے ہونے سے
اقراء عافیہ
No comments:
Post a Comment