تُمہی نے عہد کیا اور کر کے توڑ دیا
یہ کیا کہ چند ہی قدموں پہ ساتھ چھوڑ دیا
وہ جس کو چھوڑ کے لہروں میں تم چلے آئے
سنا ہے اس نے سمندر کے رُخ کو موڑ دیا
مزہ تو تب تھا کہ کوہکن تڑپ کے مر جاتا
یہ رسمِ عشق نہیں ہے کہ سر کو پھوڑ دیا
ہمارے پاس تو اب کچھ نہیں بہانے کو
تمہارے ہِجر میں آنکھوں کو بھی نچوڑ دیا
بھلے دنوں کا بھروسہ نہیں رہا مجھ کو
سو میں نے رشتئہ الفت غموں سے جوڑ دیا
کرے وہ مجھ پہ عنایت کہ پھر ستم جاوید
ہر ایک فیصلہ میں نے اسی پہ چھوڑ دیا
سردار جاوید خان
No comments:
Post a Comment