Monday, 9 August 2021

ہم سے پوچھا کیا بیتی ہے آخر شب کے ماروں پر

 ہم سے پوچھا کیا بیتی ہے آخر شب کے ماروں پر

صحرا صحرا رنگ بکھیرے رقص کیا انگاروں پر

اک سایہ شرماتا لجاتا راہ میں تنہا چھوڑ گیا

میں پرچھائیں ڈھونڈ رہا ہوں ٹوٹی ہوئی دیواروں پر

سرگشتہ تھے موج ہوا سے بیت گیا وہ موسم تو ہم

برگ خزاں کی مانند اب آوارہ ہیں کہساروں پر

بھولی بسری یادیں آ کر سرگوشی کرتی ہیں

پھر سے کوئی گیت سناؤ دل کے شکستہ تاروں پر


عشرت قادری

No comments:

Post a Comment