سب اُتر جائیں گے میرے دل سے
تُو مگر جان سے پیارا رہے گا
یوں تو ہیں اس کے طلبگار بہت
دل پہ بس تیرا اجارہ رہے گا
ٹھیک ہے تو نہیں ملنے کا ہمیں
یادوں پر اب کے گُزارا رہے گا
تجھ کو دیکھا نہیں تصویر تو بھیج
کچھ میرے جی کو سہارا رہے گا
ٹھیک ہے ہر خوشی تُو رکھ لے مگر
دُکھ ہے مُشترکہ ہمارا رہے گا
کوئی تو آئے تیرے شہر سے دوست
ہمیں دشمن بھی گوارا رہے گا
سوچا تنہائی سے جوڑیں سمبندھ
کب تلک ہجر کنورا رہے گا
عشق کو پالا ہے برسوں دل نے
زندگی بھر یہ دُلارا رہے گا
صائمہ یوسفزئی
No comments:
Post a Comment