Monday, 14 June 2021

یہ بت غرور کے ہر بار ڈھائے جائیں گے

 یہ بت غرور کے ہر بار ڈھائے جائیں گے

یہ آسمان زمیں پر گرائے جائیں گے

چمن میں کہتا تھا صیاد ایک بلبل کو

زبان کاٹ کے نغمے سکھائے جائیں گے

انا کی دھوپ محبت کے پیڑ پر چیخی

مِری تپش سے وفاؤں کے سائے جائیں گے

عجیب آنکھ کی دھمکی؛ کہ شام ہوتے ہی

یہ سارے ضبط کے آنسو بہائے جائیں گے

یہ جملہ نقش ہے دولت کی درسگاہوں پر

'یہاں فریب کے سب گُر سکھائے جائیں گے'

کتابِ دل میں ترا نام جس پہ لکھا ہے

ورق وہ پھاڑ کے پرزے اڑائے جائیں گے

جنہوں نے اہلِ ہوس کا نقاب نوچا ہے

تمہارے عشق میں وہ آزمائے جائیں گے

تڑب رہا ہے ذرا دیکھ پیاس سے صحرا

پہ ساحلوں کو ہی دریا پلائے جائیں گے

اسی کو فہد مسیحا کا نام دے دینا

کہ جس کو دیکھ کے پتھر اُٹھائےجائیں گے


سردار فہد

No comments:

Post a Comment