یہ بت غرور کے ہر بار ڈھائے جائیں گے
یہ آسمان زمیں پر گرائے جائیں گے
چمن میں کہتا تھا صیاد ایک بلبل کو
زبان کاٹ کے نغمے سکھائے جائیں گے
انا کی دھوپ محبت کے پیڑ پر چیخی
مِری تپش سے وفاؤں کے سائے جائیں گے
عجیب آنکھ کی دھمکی؛ کہ شام ہوتے ہی
یہ سارے ضبط کے آنسو بہائے جائیں گے
یہ جملہ نقش ہے دولت کی درسگاہوں پر
'یہاں فریب کے سب گُر سکھائے جائیں گے'
کتابِ دل میں ترا نام جس پہ لکھا ہے
ورق وہ پھاڑ کے پرزے اڑائے جائیں گے
جنہوں نے اہلِ ہوس کا نقاب نوچا ہے
تمہارے عشق میں وہ آزمائے جائیں گے
تڑب رہا ہے ذرا دیکھ پیاس سے صحرا
پہ ساحلوں کو ہی دریا پلائے جائیں گے
اسی کو فہد مسیحا کا نام دے دینا
کہ جس کو دیکھ کے پتھر اُٹھائےجائیں گے
سردار فہد
No comments:
Post a Comment