Monday, 14 June 2021

چاہتوں کا جہان جنگل ہے

 چاہتوں کا جہان جنگل ہے

عشق تیری اڑان جنگل ہے

سوچ اپنی کو کھا گیا جنگل

شہر جنگل مکان جنگل ہے

تیری باتوں سے خوف آتا ہے

تیری یہ داستان جنگل ہے

اب درختوں سے بات کرتا ہوں

اب مرا رازدان جنگل ہے

دیکھ کیسے حیات پلتی ہے

کس طرح مہربان جنگل ہے

یہ گماں ہے وہ مجھ کو چاہتی ہے

اور یہ میرا گمان جنگل ہے

رکھ قدم پھونک پھونک کر عاشر

دیکھ اے میری جان جنگل ہے


راشد خان عاشر

No comments:

Post a Comment