چاہتوں کا جہان جنگل ہے
عشق تیری اڑان جنگل ہے
سوچ اپنی کو کھا گیا جنگل
شہر جنگل مکان جنگل ہے
تیری باتوں سے خوف آتا ہے
تیری یہ داستان جنگل ہے
اب درختوں سے بات کرتا ہوں
اب مرا رازدان جنگل ہے
دیکھ کیسے حیات پلتی ہے
کس طرح مہربان جنگل ہے
یہ گماں ہے وہ مجھ کو چاہتی ہے
اور یہ میرا گمان جنگل ہے
رکھ قدم پھونک پھونک کر عاشر
دیکھ اے میری جان جنگل ہے
راشد خان عاشر
No comments:
Post a Comment