پل بھر میں انسان کی ترجیحات بدل جایا کرتی ہیں
زندگی سے تھکے کینسر کے مریض کو
اپنے وارڈ کی نرس سے محبت ہو جائے تو وہ
زندگی کی دعائیں مانگنے لگ جاتا ہے
وہ چاہتا ہے اُسے کچھ مہلت مل جائے
اور وہ ایک محبت کر لے
کچھ مرض ایسا ہوا کرتے ہیں
جو انسان کی زندگی کو کھانے کے ساتھ ساتھ
اس میں زندہ رہنے کی تڑپ بھی بڑھا دیتے ہیں
سارا دن کی تھکی ہاری ایک ویشیا
میرے ساتھ لیٹتے ہی سو گئی
اپنی آغوش میں اس کا سر لیے
اس کے نرم ہاتھ تھامے
میں ساری رات اسے لوری سناتا رہا
صبح اس کا ماتھا چوم کر
اس کی قیمت اسے تھما آیا
اس کی آنکھوں میں
سو جانے کی شرمندگی کے ساتھ ساتھ
شکر گزاری کی چمک بھی تھی
مجھے یقین ہے کہ اب وہ ہر گاہک میں
میری صورت ڈھونڈھتی ہو گی
بھٹے پر کام کرنے والی وہ لڑکی
سارا دن مٹی کی اینٹوں کے ساتھ
خیالوں میں اپنا تاج محل بھی بناتی ہے
اینٹوں کے پکنے کے ساتھ ساتھ
اس کا رنگ بھی پکا ہو رہا ہے
وہ اس کان کن کی منتظر ہے
جو اس ہیرے کو کوئلے کی کان سے نکالے گا
میاں وقار
No comments:
Post a Comment