Saturday, 5 March 2022

ہزار رنج سفر ہے حضر کے ہوتے ہوئے

ہزار رنج سفر ہے حضر کے ہوتے ہوئے

یہ کیسی خانہ بدوشی ہے گھر کے ہوتے ہوئے

وہ حبس جاں ہے برسنے سے بھی جو کم نہ ہوا

گھٹن غضب کی ہے اک چشم تر کے ہوتے ہوئے

مِرے وجود کو پیکر کی ہے تلاش ابھی

میں خاک ہوں ہنر کوزہ گر کے ہوتے ہوئے

سحر اجالنے والے کرن کرن کے لیے

ترس رہے ہیں فروغ سحر کے ہوتے ہوئے

ہر انکشاف ہے اک انکشاف لا علمی

کمال بے خبری ہے خبر کے ہوتے ہوئے

گریزاں مجھ سے رہا ہے یہ سایۂ دیوار

میں دھوپ دھوپ جلا ہوں شجر کے ہوتے ہوئے

ہم اس سے مل کے کریں عرض حال کچھ عرفان

محال ہے یہ دل حیلہ گر کے ہوتے ہوئے


عرفان احمد وحید

No comments:

Post a Comment