Saturday, 5 March 2022

گھر کہاں ہے مجھے سمجھنے کو

گھر کہاں ہے مجھے سمجھنے کو

آ گیا در بدر بکھرنے کو

یہ زمانہ ہے تیری جُستجو کا

زندگی ہے ابھی بِچھڑنے کو

طاقچے میں پڑا ہُوا ہوں میں

لَو پریشاں ہوئی نِکھرنے کو

عشق بازار بھی ہُوا ہے بند

اور مِرے پاس کیا تھا کرنے کو

عالمِ شوق ہے یا جُستجو ہے

تیرا مِلنا ہے پھر بِچھڑنے کو

میں کسے اب ہُنر دکھاؤں حسیب

کوئی زندہ رہا نہ مرنے کو


حسیب بشر

No comments:

Post a Comment