Saturday, 15 January 2022

تجھ میں کب حسن بہار گل کی رعنائی نہ تھی

 تجھ میں کب حسن بہار گل کی رعنائی نہ تھی

کب ترے جلووں کی اک دنیا تماشائی نہ تھی

زندگی بھر آرزو کا خون ہی ہوتا رہا

لب پہ لیکن ایک دن بھی آہ تک آئی نہ تھی

یہ غلط ہے میرا سجدہ وجہ رسوائی ہوا

رشک محراب حرم کب تیری انگڑائی نہ تھی

عشق ہے اک آتش دل سوز میں جلنے کا نام

ہم کو تو روز ازل یہ بات سمجھائی نہ تھی

ہم رہے ہیں منزلوں ہی منزلوں میں عمر بھر

جیسے قسمت میں کسی پہلو شکیبائی نہ تھی

اک چمن کیا دو جہاں کی آفتوں سے دور تھا

غنچۂ نورس کے لب تک جب ہنسی آئی نہ تھی

کیا کہوں جوہر جو میرے جان و دل پر بن گئی

موت کا پیغام تھا،۔ اک شام تنہائی نہ تھی


جوہر زاہری

No comments:

Post a Comment