Saturday, 15 January 2022

تم اپنے مریض غم ہجراں کی خبر لو

 تم اپنے مریض غم ہجراں کی خبر لو

سونپا ہے اگر درد تو درماں کی خبر لو

ہنستے ہو عبث حال پریشاں پہ ہمارے

اپنی تو ذرا زلف پریشاں کی خبر لو

یوں اور مجھے خلق میں بد نام کرو گے

بس ہوش سنبھالو بھی گریباں کی خبر لو

کس کام یہ آئے گی مسیحائی تمہاری

احسان کرو، عاشق بے جاں کی خبر لو

پھیلے ہوئے سرمے کو تو رومال سے پوچھو

کیا وضع ہے یہ نرگس فتاں کی خبر لو

کہتا ہے یہی تم سے شعور جگر افگار

سونپا ہے اگر درد تو درماں کی خبر لو


شعور بلگرامی

No comments:

Post a Comment