بس اتنا جان کے تیرہ کہ ہوں نہ تین کے بِیچ
گھِرا ہوا ہوں عجب ہی منافقین کے بیچ
وہ جون ہو کہ میں، جیتے جی مار دیتی ہیں
یہ مشترک ہے قدر ساری فارعین کے بیچ
فرار مسئلے کا حل نہیں ہے جان لے دوست
سکوں نہیں ہے فقط موت مارفین کے بیچ
میں کیوں کروں گا مسلّط کسی پہ سوچ اپنی
کہ جبر ہے ہی نہیں کوئی میرے دین کے بیچ
مِرے کلام کی اوقات بڑھ گئی تھی کہ جب
مشاعرے میں وہ بیٹھی تھی سامعین کے بیچ
چناؤ جیت کے پھر ملک کا وہ حال کِیا
کہ جیسے مالِ غنیمت ہو فاتحین کے بیچ
مسعود ساگر
No comments:
Post a Comment