Saturday, 5 June 2021

محبتوں کو بھی وعدوں میں رکھ دیا گیا ہے

 محبتوں کو بھی وعدوں میں رکھ دیا گیا ہے

کہ جیسے پھول کتابوں میں رکھ ریا گیا ہے

چراغ گھر کی منڈیروں پہ رکھ دئیے گئے ہیں

اور انتظار چراغوں میں رکھ دیا گیا ہے

میں ایک عرصہ اسی کی سپردگی میں رہی

جو ایک لمحہ خیالوں میں رکھ دیا گیا ہے

پھر ان ہواؤں میں ہے اس کی گنگناہٹ بھی

پھر اس کا لمس گلابوں میں رکھ دیا گیا ہے

جو ایک یاد پرانی سجی تھی کمرے میں

اسے بھی اب تو درازوں میں رکھ دیا گیا ہے

میں اک گماں تھی فسانے میں ڈھل گئی آخر

وہ ایک خواب تھا آنکھوں میں رکھ دیا گیا ہے


سیما غزل

No comments:

Post a Comment