محبتوں کو بھی وعدوں میں رکھ دیا گیا ہے
کہ جیسے پھول کتابوں میں رکھ ریا گیا ہے
چراغ گھر کی منڈیروں پہ رکھ دئیے گئے ہیں
اور انتظار چراغوں میں رکھ دیا گیا ہے
میں ایک عرصہ اسی کی سپردگی میں رہی
جو ایک لمحہ خیالوں میں رکھ دیا گیا ہے
پھر ان ہواؤں میں ہے اس کی گنگناہٹ بھی
پھر اس کا لمس گلابوں میں رکھ دیا گیا ہے
جو ایک یاد پرانی سجی تھی کمرے میں
اسے بھی اب تو درازوں میں رکھ دیا گیا ہے
میں اک گماں تھی فسانے میں ڈھل گئی آخر
وہ ایک خواب تھا آنکھوں میں رکھ دیا گیا ہے
سیما غزل
No comments:
Post a Comment