Saturday, 5 June 2021

تجھ سے بچھڑوں تو تری ذات کا حصہ ہو جاؤں

 تجھ سے بچھڑوں تو تِری ذات کا حصہ ہو جاؤں

جس سے مرتا ہوں، اسی زہر سے اچھا ہو جاؤں

تم مِرے ساتھ ہو، یہ سچ تو نہیں ہے، لیکن

میں اگر جھوٹ نہ بولوں، تو اکیلا ہو جاؤں

میں تِری قید کو، تسلیم تو کرتا ہوں، مگر

یہ مِرے بس میں نہیں ہے کہ پرندہ ہو جاؤں

آدمی بن کے بھٹکنے میں مزا آتا ہے

میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ فرشتہ ہو جاؤں


احمد کمال پروازی

No comments:

Post a Comment