پاسداری میں دھر لیے گئے ہیں
یار یاری میں دھر لیے گئے ہیں
تجھ کو الزام سے بچاتے لوگ
وضعداری میں دھر لیے گئے ہیں
بول پڑتے تو بچ بھی سکتے تھے
انکساری میں دھر لیے گئے ہیں
اشک آنکھوں سے بھاگ سکتے تھے
پردہ داری میں دھر لیے گئے ہیں
ہم زمانے میں سرخ پھولوں کی
آبیاری میں دھر لیے گئے ہیں
دشمنی میں تو مارتے ہیں لوگ
ہم تو یاری میں دھر لیے گئے ہیں
دوسرا عشق کیسے کرتے بھلا
پہلی باری میں دھر لیے گئے ہیں
مقدس ملک
No comments:
Post a Comment