کیا بکتے کہ ہم خود ہی کو درکار بہت تھے
ورنہ یہاں اپنے بھی خریدار بہت تھے
اس کارِ محبت میں تھے کچھ مرحلے وہ بھی
جو سہل نظر آئے، پر دشوار بہت تھے
اک لطف تھا ان میں بھی جو ہم سہتے رہے ہیں
ورنہ تو تیری راہ میں، آزار بہت تھے
حیرت ہے، تيرے عشقِ دل و جان طلب میں
ہارے ہیں وہی خود کو جو خود دار بہت تھے
ہر دور میں یہ کیا کہ ستم ٹوٹے انہی پر
جی جان سے جو تیرے طرفدار بہت تھے
اب کس سے کہوں زخم یہ سب ان کی عطا ہیں
جو لوگ بظاہر ميرے غم خوار بہت تھے
مخلص ہی سہی مگر اس چشمِ جہاں میں
یہ جرم کوئی کم ہے کہ نادار بہت تھے
باہر سے سلامت نظر آئے اسے، ورنہ
اندر سے تو ہم لوگ بھی مسمار بہت تھے
اک روز اسے دھجیاں ہونا ہی تھا رزمی
پگ ایک تھی وہ جس کے طلبگار بہت تھے
خادم رزمی
No comments:
Post a Comment