Saturday, 15 January 2022

غبار وحشت زندان کی گھٹن سے مجھے

غبارِ وحشتِ زندان کی گھٹن سے مجھے

فرار ایک گھڑی کو نہیں بدن سے مجھے

جمالِ برف محبت سے جب نہ پگھلا تو

تعلقات بڑھانے پڑے سخن سے مجھے

تمہاری یاد بھی مانندِ خار ہے، گویا

قرار ملتا نہیں کوئی پل چبھن سے مجھے

میں جانتا ہوں مِری وسعتِ ہوس کو سو تم

کچھ اور دور رکھو اپنے اس بدن سے مجھے


راشد ملک 

No comments:

Post a Comment