Saturday, 15 January 2022

اس سیہ رات میں کوئی تو سہارا مل جائے

 اس سیہ رات میں کوئی تو سہارا مل جائے

اپنے اندر ہی کوئی سایہ چمکتا مل جائے

اس کو اک دکھ سے بچانا بھی ضروری ہے بہت

بس کسی طرح وہ اک بار دوبارہ مل جائے

سوچتا ہوں کہ اب اس گھر میں مِرا ہے ہی کیا

ہاں اگر رونے کی خاطر کوئی کونا مل جائے

شہر کا شہر ہی ویران پڑا ہے کیسا

کوئی بچہ ہی کہیں شور مچاتا مل جائے

جانتے ہیں کہ وہاں لوٹ کے بھی کیا ہو گا

ایک کوشش کوئی جینے کا بہانا مل جائے


آلوک مشرا

No comments:

Post a Comment