Friday, 7 January 2022

کل کی ملاقات میں تم نے مجھ سے

 ملاقات


کل کی ملاقات میں تم نے مجھ سے

تازہ شاعری مانگی

میں نے سوچا

تم تو خود سراپا حسن ہو، ناز ہو، انداز ہو

تم کو لفظوں کی ضرورت کیا ہے؟

پھر بھی دلِ عشاق نے

الفاظ کچھ موزوں کئے

لب ہیں یاقوت، باہیں مرمریں

زلفیں ایسی ہیں حسیں

جو نظر جائے بھٹک جائے وہیں

بس آج اتنی ہی شاعری تھی

میرے دل میں جاگزیں

تمہیں نذر کرنے کے لیے

پسند آئے تو رکھ لینا

ناپسند ہو تو واپس کر دینا

کسی اور کو نذر کرنے کے لیے


زائرہ عابدی

No comments:

Post a Comment