ملاقات
کل کی ملاقات میں تم نے مجھ سے
تازہ شاعری مانگی
میں نے سوچا
تم تو خود سراپا حسن ہو، ناز ہو، انداز ہو
تم کو لفظوں کی ضرورت کیا ہے؟
پھر بھی دلِ عشاق نے
الفاظ کچھ موزوں کئے
لب ہیں یاقوت، باہیں مرمریں
زلفیں ایسی ہیں حسیں
جو نظر جائے بھٹک جائے وہیں
بس آج اتنی ہی شاعری تھی
میرے دل میں جاگزیں
تمہیں نذر کرنے کے لیے
پسند آئے تو رکھ لینا
ناپسند ہو تو واپس کر دینا
کسی اور کو نذر کرنے کے لیے
زائرہ عابدی
No comments:
Post a Comment