Friday, 7 January 2022

شاعری سے بڑی زباں کوئی ہے

 شاعری سے بڑی زباں کوئی ہے

خامشی بول اٹھی کہ ہاں، کوئی ہے

جانتا ہوں کہاں کہاں کوئی تھا

خوش رہے اب جہاں جہاں کوئی ہے

عِشق میں فائدہ ہوا مجھ کو

اس سے بڑھ کے بتا زیاں کوئی ہے

پیاسے اب پوچھتے ہیں پیاسوں سے

خودکشی کے لیے کنواں کوئی ہے

خوش گمانی ہے یہ میرے دل کی

میرے بارے میں خوش گماں کوئی ہے

میرے جیسا کوئی نہیں فیصل

میں دھواں ہوں دھواں دھواں کوئی ہے


مرزا فیصل

No comments:

Post a Comment