Friday, 7 January 2022

پہیلیاں میری ہی سوچوں میں کیوں مکڑی نے

پہیلیاں


میری ہی سوچوں میں

کیوں مکڑی نے اتنے جال بنے ہیں

پھولوں جیسی یادوں میں

یہ کانٹوں جیسی چبھن ہے کیونکر

تم مجھ سے میرے خوابوں میں ہر شب

ملنے کیوں آتی ہو

میرے کندھے پر سر رکھ کر

پیار بھرے نغمے گاتی ہو

بیکل دل کو بہلاتی ہو

لیکن دن میں یہ

کیا ہو جاتا ہے تم کو

یوں لگتا ہے مجھے دیکھ کر

جیسے تم گھبرا جاتی ہو تم سے

بات نہیں ہو پاتی

اور مجھے بھی ایک سوچ رہ رہ کر جیسے تڑپاتی ہے

میرے قد سی چھوٹی راہیں لمبی کیونکر ہو جاتی ہیں

اور تمہاری زلفوں نے بھی

کیونکر بڑھنا چھوڑ دیا ہے


سیوک نیر

No comments:

Post a Comment