کچھ تو اسباب بنیں، بات کرو، بارش ہو
آسماں سے ہو بھلے آنکھ سے ہو، بارش ہو
کل پہ رکھ لو یہ لڑائی کہ بہت گرمی ہے
اب مِری بات سنو ساتھ چلو، بارش ہو
اور کچھ دیر بھرم رہنے دو نم آنکھوں کا
اور کچھ دیر یونہی ہنستے رہو بارش ہو
بھیگ جائیں یہ بدن، اور کہیں رکنا پڑے
کیا کہا، تم نے ذرا پھر سے کہو، بارش ہو
توڑئیے چپ کہ بہت حبس ہوا جاتا ہے
کس نے روکا ہے تمہیں کھل کے ہنسو، بارش ہو
دیر تک بحث رہی ہے مِری ان آنکھوں سے
کب سے ویراں ہو، کوئی خواب بُنو، بارش ہو
یہ وہ خواہش ہے جو پوری نہیں ہو گی شاید
یار کا ساتھ ہو، آوارگی ہو، بارش ہو
دیکھنا کیسے برستی ہیں یہ آنکھیں میری
تم گلے مِل کے جو اک بار کہو، بارش ہو
میری بستی میں تو سیلاب ہی لائی ناہید
پھول مہکائے تِرے شہر میں جو بارش ہو
ناہید کیانی
No comments:
Post a Comment