Tuesday, 6 April 2021

جو پھر تیری ضرورت پڑ گئی ہے

 جو پھر تیری ضرورت پڑ گئی ہے

یہ لگتا ہے کہ عادت پڑ گئی ہے

کوئی تعویز دو ردِّ بلا کا

مِرے پیچھے محبت پڑ گئی ہے

مکیں سب جا چکے ہیں اور مکاں کی

مِرے ذمے حفاظت پڑ گئی ہے

کوئی کرنے لگا ہے پھر دعائیں

مِرے کاموں میں برکت پڑ گئی ہے

رکی جب دھوپ بادل سے تو سمجھا

در و دیوار پہ چھت پڑ گئی ہے

میں اس تک جاتے جاتے رک گیا ہوں

بدن میں اتنی ہمت پڑ گئی ہے


علی معین

No comments:

Post a Comment