جو پھر تیری ضرورت پڑ گئی ہے
یہ لگتا ہے کہ عادت پڑ گئی ہے
کوئی تعویز دو ردِّ بلا کا
مِرے پیچھے محبت پڑ گئی ہے
مکیں سب جا چکے ہیں اور مکاں کی
مِرے ذمے حفاظت پڑ گئی ہے
کوئی کرنے لگا ہے پھر دعائیں
مِرے کاموں میں برکت پڑ گئی ہے
رکی جب دھوپ بادل سے تو سمجھا
در و دیوار پہ چھت پڑ گئی ہے
میں اس تک جاتے جاتے رک گیا ہوں
بدن میں اتنی ہمت پڑ گئی ہے
علی معین
No comments:
Post a Comment