خاک چھانی ہے تیری راہوں کی
عاشقی کیا ہے ہم فقیروں کی
لفظ اظہار کا سلیقہ ہیں
شاعری گفتگو ہے جذبوں کی
جب سے وہ پاس آ رہا ہے مِرے
بیڑیاں کھل رہی ہیں پاؤں کی
ہم تِرے سائے میں رہے تنہا
بات جب ہو رہی تھی چھاؤں کی
ایسا لگتا ہے آپ آئیں گے
کیا عجب چال ہے ہواؤں کی
ایک مدت سے گھر نہیں دیکھا
یاد آتی ہے اپنے گاؤں کی
جیسے صحرا میں پھول کھل جائے
ایسی راحت ہے اس کی بانہوں کی
ناہید کیانی
No comments:
Post a Comment