Saturday, 18 September 2021

خاک چھانی ہے تیری راہوں کی

 خاک چھانی ہے تیری راہوں کی

عاشقی کیا ہے ہم فقیروں کی

لفظ اظہار کا سلیقہ ہیں

شاعری گفتگو ہے جذبوں کی

جب سے وہ پاس آ رہا ہے مِرے

بیڑیاں کھل رہی ہیں پاؤں کی

ہم تِرے سائے میں رہے تنہا

بات جب ہو رہی تھی چھاؤں کی

ایسا لگتا ہے آپ آئیں گے

کیا عجب چال ہے ہواؤں کی

ایک مدت سے گھر نہیں دیکھا

یاد آتی ہے اپنے گاؤں کی

جیسے صحرا میں پھول کھل جائے

ایسی راحت ہے اس کی بانہوں کی


ناہید کیانی

No comments:

Post a Comment