Saturday, 18 September 2021

دل دھواں دینے لگے آنکھ پگھلنے لگ جائے

 دل دھواں دینے لگے آنکھ پگھلنے لگ جائے

تم جسے دیکھ لو اک بار وہ جلنے لگ جائے

رقص کرتی ہیں کئی روشنیاں کمرے میں

اس کا چہرہ نہ کہیں رنگ بدلنے لگ جائے

تیز رفتارئ دنیا نہ بدل دے معیار

شام کے ساتھ کہیں عمر نہ ڈھلنے لگ جائے

روشنی میں تِری رفتار سے کرتا ہوں سفر

زندگی مجھ سے کہیں تیز نہ چلنے لگ جائے

رستا پانی بھی غنیمت ہے وہ دن دور نہیں

روزنِ چشم سے جب ریت نکلنے لگ جائے

ریگِ صحرا ہے تِرے جسم کے سونے کی مثال

آنکھ پھسلے تو کبھی پاؤں پھسلنے لگ جائے

شاخِ دل کاٹ کے مٹی میں دبا دی ہم نے

کاش ایسا ہو کہ یہ پھولنے پھلنے لگ جائے

ہم بھی ہنگامۂ بازار جہاں سے گزرے

جیسے ذیشان کوئی نیند میں چلنے لگ جائے


ذیشان اطہر

No comments:

Post a Comment