Friday, 4 December 2020

میں نے تو کہا تھا میرے دن رات میں رہنا

 میں نے تو کہا تھا میرے دن رات میں رہنا

آتا ہی نہیں تھا اسے اوقات میں رہنا

چہرے کے تاثر کو بھلا کیسے چھپاؤں

مشکل ہے مرا تیرے مضافات میں رہنا

دنیا کا ہے نقصان، مگر چین بہت دے

ہر وقت تمہارے ہی خیالات میں رہنا

راس آتی ہے تنہائی تو اچھا نہیں لگتا

انساں کے بنائے ہوئے جنگلات میں رہنا

مجھ پر شبِ ہجراں کا اثر خاص نہیں ہے

آتا ہے مجھے وصل کی اک رات میں رہنا

بس نقش نگاری ہے یہ قدرت کی وگرنہ

مبہم ہے لکیروں کا مرے ہاتھ میں رہنا

اب سب کو کھٹکتا ہے کہ چپ چاپ سا کیوں ہوں

اچھا کسے لگتا ہے سوالات میں رہنا

ہے تجھ سے محبت تیرا قیدی تو نہیں ہوں

مشکل ہے پرندوں کا حوالات میں رہنا

دنیا بھی تماشا ہے ،تماشائی بھی دنیا

خوش رہنا عطش جیسے بھی حالات میں رہنا


عطش نقوی

No comments:

Post a Comment