میں نے تو کہا تھا میرے دن رات میں رہنا
آتا ہی نہیں تھا اسے اوقات میں رہنا
چہرے کے تاثر کو بھلا کیسے چھپاؤں
مشکل ہے مرا تیرے مضافات میں رہنا
دنیا کا ہے نقصان، مگر چین بہت دے
ہر وقت تمہارے ہی خیالات میں رہنا
راس آتی ہے تنہائی تو اچھا نہیں لگتا
انساں کے بنائے ہوئے جنگلات میں رہنا
مجھ پر شبِ ہجراں کا اثر خاص نہیں ہے
آتا ہے مجھے وصل کی اک رات میں رہنا
بس نقش نگاری ہے یہ قدرت کی وگرنہ
مبہم ہے لکیروں کا مرے ہاتھ میں رہنا
اب سب کو کھٹکتا ہے کہ چپ چاپ سا کیوں ہوں
اچھا کسے لگتا ہے سوالات میں رہنا
ہے تجھ سے محبت تیرا قیدی تو نہیں ہوں
مشکل ہے پرندوں کا حوالات میں رہنا
دنیا بھی تماشا ہے ،تماشائی بھی دنیا
خوش رہنا عطش جیسے بھی حالات میں رہنا
عطش نقوی
No comments:
Post a Comment