راہِ سخن آرائی میں بےباک تھے ہم بھی
صد چاکِ گریبانئ پوشاک تھے ہم بھی
ہونٹوں پہ ہنسی تھی تو زمانے کے لیے تھی
اس گردشِ دوراں میں المناک تھے ہم بھی
آیا بھی اگر کوئی، تو ٹھہرا نہیں اک پَل
اک شہرِ خموشاں میں تہِ خاک تھے ہم بھی
دیکھا ہی نہیں درد کا عالم کبھی تم نے
خلقت میں تمہاری خس و خاشاک تھے ہم بھی
اک درد کا آنکھوں میں رہا اپنی بسیرا
آزردگئ عشق سے نمناک تھے ہم بھی
کاظم واسطی
No comments:
Post a Comment