Friday, 4 December 2020

اس نے کہا وہ دھول ہے مجھ کو لگا کہ میں

 اس نے کہا وہ دُھول ہے، مجھ کو لگا کہ میں

جانے کوئی سراب تھا وہ بلبلہ، کہ میں

آنکھوں پہ اس نے چپکے سے یوں ہاتھ رکھ دئیے

میں نے کہا کہ کون ہو؟ بولی دبا کے میں

لے دوست فوٹو کھینچ مِرا زُوم کر کے دیکھ

اب یہ بتا؟ کہ عکس میں گِریہ بنا کہ میں

مجھ سے یہ کہہ رہے ہیں کوئی اور ڈھونڈ لو

کن جاہلوں میں پھنس گیا ہوں یار آ کے میں

ایسے تمہارے ساتھ چلیں گے کہ لوگ، پھر

پہچانتے پھریں گے کہ تُو آ رہا کہ میں

اس کی گلی کی ریت میں روشن سا کچھ تو تھا

جانے وہ آئینہ سا تھا ٹُوٹا ہُوا کہ میں

اب دل میں تُو نہیں تو تِری یاد بھی نہیں

رکھ دوں گا تیرے سامنے حسرت جلا کے میں

سوچا ہے رُخ کو موڑ کے اس کی طرف سے اب

ڈھونڈوں پرائی جھیل میں مجھ کو بہا کے میں

تھپکی بھی کون دیتا بچھڑتے سمے مجھے

خود ہی چلا گیا تھا، خودی کو بُلا کے میں

دل تُو ہی دیکھ نا! کہ مِرا بھی تو گھر نہیں

اب وہ رہا کرے گا یہاں پر بتا کہ میں؟

شب بھر رہے گا کون یونہی انتظار میں

سو جاؤں گا چراغ کو آخر بُجھا کے میں

ہم نے بھی اس کو جانے دیا پھر سکون سے

رکھتا تھا جس کو دُھوپ سے ہر دم بچا کے میں

تھاما کسی نے ہاتھ وگرنہ یہ سین تھا

چلتا بنا تھا اپنی طرف سے نبھا کے میں


سعد سین

No comments:

Post a Comment