ایک ادھورا خواب
کبھی کبھی میں یہ چاہتا ہوں
کہ وقت کے دائروں سے باہر
کسی نہ دیکھے ہوئے جزیرے پہ
روشنی کا طواف کرتی
حیات بے حد حسین ہوتی
اک ایسی وادی
کہ جس کے دامن کا ذرہ ذرہ
محبتوں کا امین ہوتا
اک ایسا خطہ
جہاں پہ انساں اسیرِ رنج و بلا نہ ہوتا
نہ کوئی سورج ہی نفرتوں کا زمیں سے اگتا
نہ آسمانوں سے خوف و وحشت کا مے برستا
نہ مفلسی کی ہلاکتوں سے کوئی بشر بے لباس ہوتا
اک ایسی وادی
کہ جس کے جھرنوں کے پانیوں سے
چہار جانب گلاب کھلتے
بچھڑنے والے بھی آن ملتے
کہ چاک زخموں کے سارے سلتے
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں
کہ کاسۂ احتیاج لے کر
گلی گلی یوں پکارنے سے
لہو لہو ساعتوں میں اب کے
فقط یوں بے سود سوچنے سے
جو خواب برسوں سے دیکھتا ہوں
وہ میری بے نور خالی آنکھوں کو
روشنی کی نوید دے گا
کہ تیرگی میں یونہی بھٹکتا ہی چھوڑ دے گا
منصور نقوی
No comments:
Post a Comment