Friday, 4 December 2020

ایک ادھورا خواب

 ایک ادھورا خواب


کبھی کبھی میں یہ چاہتا ہوں

کہ وقت کے دائروں سے باہر

کسی نہ دیکھے ہوئے جزیرے پہ

روشنی کا طواف کرتی

حیات بے حد حسین ہوتی


اک ایسی وادی

کہ جس کے دامن کا ذرہ ذرہ

محبتوں کا امین ہوتا

اک ایسا خطہ

جہاں پہ انساں اسیرِ رنج و بلا نہ ہوتا

نہ کوئی سورج ہی نفرتوں کا زمیں سے اگتا

نہ آسمانوں سے خوف و وحشت کا مے برستا

نہ مفلسی کی ہلاکتوں سے کوئی بشر بے لباس ہوتا

اک ایسی وادی

کہ جس کے جھرنوں کے پانیوں سے

چہار جانب گلاب کھلتے

بچھڑنے والے بھی آن ملتے

کہ چاک زخموں کے سارے سلتے

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں

کہ کاسۂ احتیاج لے کر

گلی گلی یوں پکارنے سے

لہو لہو ساعتوں میں اب کے

فقط یوں بے سود سوچنے سے

جو خواب برسوں سے دیکھتا ہوں

وہ میری بے نور خالی آنکھوں کو

روشنی کی نوید دے گا

کہ تیرگی میں یونہی بھٹکتا ہی چھوڑ دے گا


منصور نقوی

No comments:

Post a Comment