Friday, 4 December 2020

خدا کرے کہ نیا سال لائے ایسی سحر

 ایک دعا نئے سال کے لیے


خدا کرے کہ نیا سال لائے ایسی سحر

کہ جس کی کرنوں سے روشن ضمیرِ آدم ہو

چلے چمن میں مرے اب کی بار ایسی ہوا

بکھرتے ٹوٹتے رشتوں میں ربطِ باہم ہو

خزاں رسیدہ بدن مثل گل کھلیں پھر سے

مٹا کے شکوے گلے یار بھی ملیں پھر سے

مرے وطن میں کوئی دل بھی سوگوار نہ ہو

لبوں پہ نالے نہ ہوں، آنکھ اشکبار نہ ہو

ہجوم یاس سے بے تاب کوئی فرد نہ ہو

کہ دور جادۂ منزل سے رہ نورد نہ ہو

نہ خوں بہے کسی مظلوم کا وطن میں مرے

پیامِ امن کی خوشبو ہو اب سخن میں مرے

نگار خانۂ گلشن میں کوئی خار نہ ہو

خزاں کے خوف میں لپٹی کوئی بہار نہ ہو

وفا، خلوص و مروت سے قلب ہوں معمور

نہ بھوک سے کوئی تڑپے نہ کوئی ہو مجبور

یہ سالِ نو، سحرِ نو کی سلسبیل بنے

ہر ایک عاجز و نادار خود کفیل بنے

ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں ہو کتاب و قلم

جواں بڑھیں سوئے منزل لیے وفا کے علم

پھر اب کی بار نہ دیکھیں ملال کا موسم

ملا دے اپنوں سے ہم کو وصال کا موسم

یہ سالِ نو ہو مبارک دعا ہے اہلِ جہاں

سکون و امن کا پیکر ہو عالمِ امکاں

ضیائے فکر کا اب کے چلن نرالا ہو

فروغِ علم سے منصور پھر اجالا ہو


منصور نقوی

No comments:

Post a Comment