Saturday, 5 December 2020

کوئی انہیں آواز نہ دینا اب کی بار کنارے سے

کوئی انہیں آواز نہ دینا اب کی بار کنارے سے

‎دریا واپس لوٹ رہے ہیں اپنے اپنے دھارے سے

‎چاند نے آنکھ مچولی کھیلی پہروں ایک ستارے سے

‎رات شرارت کرنے اتری سورج کے چوبارے سے

‎کبھی کبھی تو زخمی کرنیں ایسے مجھ تک آتی ہیں

‎جیسے کوئی کاٹ رہا ہو روشنیوں کو آرے سے

‎برف کے غالیچے پر پھسلے سورج کی کرنوں کے پاؤں

‎اور شفق نے ہاتھ بڑھا کر تھام لیے انگارے سے

‎بیچ کے سارے خواب سنہرے، گروی رکھ کر دن اور رات

‎گھر آنگن سنسار بنایا، دل، مٹی اور گارے سے

‎کھیل عجب سا کھیل رہی ہے رنگ بدلتی بستی یار

‎موسم جھولا جھول رہے ہیں مل کر سب بنجارے سے

‎کیا ہے اگر جو ہجر ملا ہے ہم کو عشق کے بدلے میں

‎مر تو نہیں جاتا ہے کوئی تھوڑے بہت خسارے سے

‎نٹ کھٹ ساون دستک دے کر دور کہیں چھپ جاتا ہے

‎اور دو بادل چھیڑ رہے ہیں اک دوجے کو، پیارے سے

‎اس کا مسلک عشق نہیں ہے، شاید دنیا داری ہے

‎دیکھو! کوئی بات نہ کرنا سیما اس بیچارے سے


سیما نقوی

No comments:

Post a Comment