کوئی انہیں آواز نہ دینا اب کی بار کنارے سے
دریا واپس لوٹ رہے ہیں اپنے اپنے دھارے سے
چاند نے آنکھ مچولی کھیلی پہروں ایک ستارے سے
رات شرارت کرنے اتری سورج کے چوبارے سے
کبھی کبھی تو زخمی کرنیں ایسے مجھ تک آتی ہیں
جیسے کوئی کاٹ رہا ہو روشنیوں کو آرے سے
برف کے غالیچے پر پھسلے سورج کی کرنوں کے پاؤں
اور شفق نے ہاتھ بڑھا کر تھام لیے انگارے سے
بیچ کے سارے خواب سنہرے، گروی رکھ کر دن اور رات
گھر آنگن سنسار بنایا، دل، مٹی اور گارے سے
کھیل عجب سا کھیل رہی ہے رنگ بدلتی بستی یار
موسم جھولا جھول رہے ہیں مل کر سب بنجارے سے
کیا ہے اگر جو ہجر ملا ہے ہم کو عشق کے بدلے میں
مر تو نہیں جاتا ہے کوئی تھوڑے بہت خسارے سے
نٹ کھٹ ساون دستک دے کر دور کہیں چھپ جاتا ہے
اور دو بادل چھیڑ رہے ہیں اک دوجے کو، پیارے سے
اس کا مسلک عشق نہیں ہے، شاید دنیا داری ہے
دیکھو! کوئی بات نہ کرنا سیما اس بیچارے سے
سیما نقوی
No comments:
Post a Comment