تاثیر کی حامل تیری گفتار نہیں ہے
گفتار میں شامل تیرا کردار نہیں ہے
جینا ہے اگر ساتھ تو جینے کا ہنر سیکھ
جینے کا ہنر عشق سے دشوار نہیں ہے
جب مشورہ کرنا تیری تحقیر ہے جاناں
جو فیصلہ کر لے مجھے انکار نہیں ہے
گر دل میں محبت ہے تو اظہار کرو تم
مجھ کو تیری نِیت سے سروکار نہیں ہے
ہنس کھیل کے دنیا کے تماشے کو گزارو
دنیا تو تیرے غم کی خریدار نہیں ہے
یہ وحشتِ دل سن کے طبیبوں نے کہا تھا
بے زار ہے دنیا سے، یہ بیمار نہیں ہے
کعبہ میں رہے بت تو وہ کعبہ ہی رہا ناں
اب دل میں بھی اصنام کا انبار نہیں ہے
ہر ایک زلیخہ کا جدا ہے یہاں یوسف
کچھ حسن پرکھنے کا تو معیار نہیں ہے
حالات کی ٹوٹی ہوئی قبروں پہ کھڑا ہوں
اشعار میں یوں رونقِ بازار نہیں ہے
ممکن ہو تو وہ راہ بدل لیجے عطش جی
جس راہ میں حائل کوئی دیوار نہیں ہے
عطش نقوی
No comments:
Post a Comment