Sunday, 6 December 2020

تاثیر کی حامل تیری گفتار نہیں ہے

تاثیر کی حامل تیری گفتار نہیں ہے

گفتار میں شامل تیرا کردار نہیں ہے

جینا ہے اگر ساتھ تو جینے کا ہنر سیکھ

جینے کا ہنر عشق سے دشوار نہیں ہے

جب مشورہ کرنا تیری تحقیر ہے جاناں

جو فیصلہ کر لے مجھے انکار نہیں ہے

 گر دل میں محبت ہے تو اظہار کرو تم

مجھ کو تیری نِیت سے سروکار نہیں ہے

ہنس کھیل کے دنیا کے تماشے کو گزارو

دنیا تو تیرے غم کی خریدار نہیں ہے

یہ وحشتِ دل سن کے طبیبوں نے کہا تھا

بے زار ہے دنیا سے، یہ بیمار نہیں ہے

کعبہ میں رہے بت تو وہ کعبہ ہی رہا ناں

اب دل میں بھی اصنام کا انبار نہیں ہے

ہر ایک زلیخہ کا جدا ہے یہاں یوسف 

کچھ حسن پرکھنے کا تو معیار نہیں ہے 

حالات کی ٹوٹی ہوئی قبروں پہ کھڑا ہوں 

اشعار میں یوں رونقِ بازار نہیں ہے 

ممکن ہو تو وہ راہ بدل لیجے عطش جی 

جس راہ میں حائل کوئی دیوار نہیں ہے


عطش نقوی

No comments:

Post a Comment