Sunday, 6 December 2020

بھیڑ میں بچھڑے ہوئے لوگ کہاں ملتے ہیں

 ناممکن

(مختصر نظم)


وقت کی کائی زدہ جھیل میں گرچہ اب تک

تِری خواہش کے کنول کھلتے ہیں

بھیڑ میں بچھڑے ہوئے لوگ کہاں ملتے ہیں


سلمان باسط

No comments:

Post a Comment