سدا ہنسنے ہنسانے کی مری عادت پُرانی ہے
بہت کچھ بھول جانے کی مری عادت پرانی ہے
محبت تو نہیں تھی وہ الف لیلیٰ کہانی تھی
کہ بس باتیں بنانے کی مری عادت پرانی ہے
ارے تم تو محبت ہو، تمہیں الزام کیونکر دوں
سزا خود کو سنانے کی مری عادت پرانی ہے
یہ سب بہروپ ہیں میرے فقط لفظی لبادے ہیں
نئے چہرے سجانے کی مری عادت پرانی ہے
محبت بھی نہیں مجھ کو، شکایت میں نہیں کرتا
یونہی آنسو بہانے کی مری عادت پرانی ہے
مرے آنسو کوئی دیکھے مجھے اچھا نہیں لگتا
سو بارش میں نہانے کی مری عادت پرانی ہے
محبت ہو کہ نفرت ہو یہ دونوں ہی برابر ہیں
انہیں خود پر سجانے کی مری عادت پرانی ہے
کبھی دل میں اتر جانا، کبھی دل سے اتر جانا
ہنر یہ آزمانے کی مری عادت پرانی ہے
مرے جیون میں دھوکہ تو صنم اک لازمی جزو ہے
سدا اس کو نبھانے کی مری عادت پرانی ہے
جہاں کہنا ضروری ہو، وہاں خاموش رہتا ہوں
یونہی جذبے چھپانے کی مری عادت پرانی ہے
یہ نفرت تو نہیں ہر گز، یہ میری اجنبیت ہے
یہ خاموشی دکھانے کی مری عادت پرانی ہے
ارے میں بارہا اس زندگی کو پڑھ چکا لوگو
یونہی لمحے بِتانے کی مری عادت پرانی ہے
میں فخرِ گلستانِ خاکِ پائے باغباں ٹھہرا
گلوں سے دل لگانے کی مری عادت پرانی ہے
تُو میرے ساتھ چل کر بھی کہاں مجھ تک پہنچ پائے
کہ ہمراہی تھکانے کی مری عادت پرانی ہے
محبت اور تنہائی مری سنگت میں روتے ہیں
ہاں اپنوں کو رلانے کی مری عادت پرانی ہے
اگر مجھ سے گلہ ہو تو بھلے تم بد دعا دے دو
دعائیں آزمانے کی مری عادت پرانی ہے
مجھے منزل سمجھ لینا تمہاری بے وقوفی تھی
صنم رستے میں آنے کی مری عادت پرانی ہے
ہمیشہ لکھ کر اپنی داستاں میں پھاڑ دیتا ہوں
یونہی خود کو مٹانے کی مری عادت پرانی ہے
کسی کی بھی نہیں سنتا بھلے نقصان ہو جائے
مقدر آزمانے کی مری عادت پرانی ہے
علی میں نے نہیں رہنا، مجھے تم واسطے مت دو
یونہی سب چھوڑ جانے کی مری عادت پرانی ہے
علی سرمد
No comments:
Post a Comment