ان آنکھوں میں ان نیندوں میں
کچھ خواب سجائے بیٹھے ہیں
ہم دل والوں کی بستی میں
امید لگائے بیٹھے ہیں
ہاں منزل دور باقی ہے
کچھ سپنے ادھورے ہیں
ان کالی اندھیری راتوں میں
ہم دیپ جلائے بیٹھے ہیں
حال غم کہہ کر ہم
سناکر درد ارے ہمدم
غم لطف گنوائے بیٹھے ہیں
نہیں ٹوٹ کے برسے اور
اشک پلکوں پر ٹھہرے ہیں
حسرت دید کی خاطر
اک حشر اٹھائے بیٹھے ہیں
جھوٹ کی ہے تشہیر بہت
سچی باتیں کم کم ہیں
ہونٹوں کی خاموشی تک
آنکھیں تحریر بنائے بیٹھے ہیں
راہ بہت دشوار سہی
منظر بھی مبہم سا ہے
سوز لطف الفت میں
ہم آس لگائے بیٹھے ہیں
نیناں غزل
No comments:
Post a Comment