Sunday, 10 January 2021

ان آنکھوں میں ان نیندوں میں کچھ خواب سجائے بیٹھے ہیں

 ان آنکھوں میں ان نیندوں میں

کچھ خواب سجائے بیٹھے ہیں

ہم دل والوں کی بستی میں

امید لگائے بیٹھے ہیں

ہاں منزل دور باقی ہے

کچھ سپنے ادھورے ہیں

ان کالی اندھیری راتوں میں

ہم دیپ جلائے بیٹھے ہیں

حال غم کہہ کر ہم

سناکر درد ارے ہمدم

غم لطف گنوائے بیٹھے ہیں

نہیں ٹوٹ کے برسے اور

اشک پلکوں پر ٹھہرے ہیں

حسرت دید کی خاطر

اک حشر اٹھائے بیٹھے ہیں

جھوٹ کی ہے تشہیر بہت

سچی باتیں کم کم ہیں

ہونٹوں کی خاموشی تک

آنکھیں تحریر بنائے بیٹھے ہیں

راہ بہت دشوار سہی

منظر بھی مبہم سا ہے

سوز لطف الفت میں

ہم آس لگائے بیٹھے ہیں


نیناں غزل

No comments:

Post a Comment