سورج سے عداوت کی جسارت سے مَرے گا
چاند اپنے ہی اندر کی حرارت سے مرے گا
ہر زہر ہے ناکام، مِرے سینۂ وا پر
دل ترکِ تعلق کی بشارت سے مرے گا
مجھ کو تو ضرورت ہی نہیں تیر سے لوں کام
غماز ہے، لفظوں کی تجارت سے مرے گا
جُز پیش، پسِ منظرِ تصویر ہے قاتل
ہر اہلِ نظراپنی بصارت سے مرے گا
ڈھونڈ اور کے چہرے پہ خوشی اپنی تُو پیہم
گر بُغض رکھے گا، تو حقارت سے مرے گا
مخلوق پہ کیوں فرض حفاظت ہو خدا کی
واعظ کا وظیفہ ہے بُجھارت سے مرے گا
بے کارئ زنداں میں ہو کچھ کارِ موافق
بیدار نہ ہو گا تو، اکارت سے مرے گا
لے جائے گی اک آہ بلکتے ہوئے شکم کی
متمول یہاں اپنی امارت سے مرے گا
محفوظ سمجھتا ہے نہاں راز، تہِ قلب
عدنان، نگاہوں کی عبارت سے مرے گا
عدنان بخاری
No comments:
Post a Comment