Sunday, 10 January 2021

میں اک جیتی جاگتی عورت ہوں

 میں اک جیتی جاگتی عورت ہوں 

ناز و انداز میں گُندھی ہوئی 

میں دِکھنے میں بھی نازک ہوں

پر اتنی بھی کمزور نہیں 

ہاں ہاتھ میں چوڑی پہنی ہے 

اور پیروں میں پائل بھی ہے

لیکن جو مجھ کو روک سکے 

یہ ایسی تو زنجیر نہیں 

ہاں رانجھے کی میں ہیر سہی

مگر، یہی میری تقدیر نہیں

ہاں رنگ ہے مجھ سے زمانے میں

پر میں کوئی تصویر نہیں

جو رکھے بندش، تالوں میں

میں ایسی تو جاگیر نہیں


تاشفین فاروقی

No comments:

Post a Comment