جسم کے بیاباں میں درد کی دعا مانگیں
پھر کسی مسافر سے روشنی ذرا مانگیں
کھو گئے کتابوں میں تتلیوں کے بال و پر
سوچ میں ہیں اب بچے کیا چھپائیں کیا مانگیں
زعفرانی کھیتوں میں اب مکان اُگتے ہیں
کس طرح زمینوں سے دل کا رابطہ مانگیں
اس سے پیشتر کہ یہ رات موند لے آنکھیں
ننھے منے جگنو سے روشنی ذرا مانگیں
کس کے سامنے رکھیے کھول کر رضا اپنی
اور کس سے جادو کا بولتا دِیا مانگیں
احمد شناس
No comments:
Post a Comment